اسد جعفری

اردو شعر و  ادب میں بطور مزاح نگار اپنی پہچان بنانے والے شاعر اسد جعفری 3جون 1935 کو غلام حسین جعفری کے ہان دریا خان بھکر پاکستان میں پیدا  ہوئے۔ان کے والد ایک سکول ٹیچر تھے۔جب اسد پانچ سال کے تھے ان کے والد کا  تبادلہ ویہاڑی میں ہوگیا۔اسد جعفری نے ویہاڑی  سے ابتدائی تعلیم اورگورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے گریجوایشن مکمل کی۔۱۹۶۱ میں وہ میونسپل کمیٹی ہائی سکول بھکر میں بطور ہیڈماسٹر منتخب ہوئےاور ۱۹۸۵ تک وہیں خدمت کی۔اس کے بعد وہ ڈائریکٹر ایجوکیشن افسر بکھر ہوگئے۔یہ عہدہ  انہوں نے ۱۹۹۰ تک سنبھالا۔
ان کے "قطعات" دو کتابوں کی صورت میں چھپ چکے ہیں ۔ ایک "خندہ نوازی" دوسری " ترا ہنسنا قیامت ہے" ۔
اس کے علاؤہ ایک کتاب "قندیلِ جاں " کے نام سے چھپی۔انہوں پاکستان کی کئیں فلموں کے لیے گانے بھی لکھے۔اس کے علاؤہ انہوں نے سہرے،رخصتیاں اور نوحے بھی لکھے۔